شکیب الحسن کا انکشاف: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ ایک بڑی غلطی تھی
شکیب الحسن کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر سخت ردعمل
بنگلادیشی کرکٹ کے سب سے بڑے نام شکیب الحسن نے حال ہی میں ایک تفصیلی انٹرویو میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کا گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ ایک تاریخی ‘بلنڈر’ تھا۔ شکیب کے مطابق، اس فیصلے نے بنگلادیشی کرکٹ کی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مسائل کا حل جنگ نہیں، بات چیت میں تھا
شکیب کا ماننا ہے کہ اگر مستفیض الرحمان کی ریلیز یا آئی پی ایل سے متعلق کوئی تنازعہ تھا، تو اسے آئی سی سی کے ساتھ ‘جنگ’ میں تبدیل کرنے کے بجائے باہمی بات چیت سے حل کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ خود آئی پی ایل کے دوران بنگلادیشی سیریز میں مصروف تھے، تو معاملات کو باہمی رضامندی سے حل کیا گیا تھا۔ بی سی بی کو بھی اسی طرح کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
سیاست اور کرکٹ کا ملاپ
شکیب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس معاملے میں سیاست کو ملوث کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت بھارت سے پیاز اور تیل جیسی اشیاء درآمد کر سکتی ہے، تو صرف کرکٹ کے میدان میں ہی ‘حب الوطنی’ اور ‘خودداری’ کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے حکام نے عوام کے جذبات کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔
معاشی نقصانات اور بورڈ کی حکمت عملی
شکیب نے واضح کیا کہ بھارت کے دورہ بنگلادیش سے بورڈ کو ایک سال کا بجٹ مل جاتا ہے۔ ایسے میں دیگر کرکٹ بورڈز کے ساتھ دشمنی پیدا کرنا بنگلادیشی کرکٹ کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے سابق صدر امین الاسلام بلبل کی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ اگر ٹیم ورلڈ کپ میں جاتی تو شاید آج بورڈ کی صورتحال مختلف ہوتی۔
ٹیم کی کارکردگی اور مستقبل
شکیب کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی ٹیم اس وقت اچھا کھیل رہی ہے لیکن انہیں بڑے حریفوں کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ کپ جیسے ایونٹس ہی ٹیم کی حقیقی صلاحیتوں کو پرکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
شکیب کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی خواہش
اپنے کیریئر کے بارے میں بات کرتے ہوئے شکیب نے کہا کہ وہ ابھی بھی بین الاقوامی کرکٹ میں پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘میں نے حالیہ ٹورنامنٹس (سی پی ایل، کینیڈا ٹی ٹوئنٹی، گلوبل ٹی ٹوئنٹی) میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ اگر مجھے ایک ماہ کی فٹنس ٹریننگ ملے تو میں واپسی کے لیے تیار ہوں۔ اگر میں دو سیریز میں ناکام رہا تو خود کو ٹیم پر بوجھ نہیں بننے دوں گا اور خود ہی الگ ہو جاؤں گا۔’
نتیجہ
شکیب الحسن کا یہ بیان بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے لیے ایک آئینہ ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جذباتیت اور سیاست کرکٹ کے میدانوں میں کتنی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بورڈ ان تجاویز پر کس طرح ردعمل دیتا ہے اور کیا شکیب کو قومی ٹیم میں دوبارہ موقع ملتا ہے یا نہیں۔
