[CRK] ہیدر نائٹ اور ڈینی گبسن کی شاندار بیٹنگ: سومرسیٹ کی لنکشائر پر فتح

[CRK]

سومرسیٹ کی شاندار جیت: ہیدر نائٹ اور ڈینی گبسن کی نصف سنچریوں نے لنکشائر کو دھول چٹائی

جنوبی پورٹ کے میدان میں کھیلے گئے ایک انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے میں سومرسیٹ نے لنکشائر کو چار وکٹوں سے شکست دے کر اپنی برتری ثابت کر دی۔ اس میچ میں سومرسیٹ کی جیت کا سہرا بنیادی طور پر ہیدر نائٹ اور ڈینی گبسن کے سر جاتا ہے، جنہوں نے مشکل وقت میں ٹیم کو سنبھالا اور شاندار نصف سنچریاں اسکور کر کے جیت کی راہ ہموار کی۔

لنکشائر کی بیٹنگ اور ابتدائی مشکلات

میچ کا آغاز لنکشائر کی بیٹنگ سے ہوا، جنہوں نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک مقابلہ جاتی مجموعہ ترتیب دینے کی کوشش کی۔ تاہم، ان کی شروعات کچھ پریشان کن رہی۔ اوپنر ایما لیمب میچ کے آخری لمحات میں زخمی ہو گئیں، جس کے بعد ان کی جگہ آنے والی ایلس کلارک تیسرے اوور میں صرف 6 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئیں، جنہیں ایلکس گریفیٹس کی گیند پر کیچ آؤٹ ہونا پڑا۔

اس کے بعد ایو جونز اور سیرین اسمائل نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ ایو جونز نے 38 رنز کیہ مفید اننگز کھیلی، لیکن سیرین اسمائل 18 رنز کے اسکور پر جس ہیزل کی شاندار وکٹ کیپنگ اور چارلی ڈین کی گیند پر اسٹمپ آؤٹ ہو گئیں۔ جب لنکشائر کا اسکور 90 رنز پر 3 وکٹیں تھا، تو ٹیم کو ایک مضبوط شراکت داری کی اشد ضرورت تھی۔

تھریل کیلڈ اور موریس کی شاندار شراکت

لنکشائر کی کپتان ایلی تھریل کیلڈ اور فی موریس نے میدان میں اترتے ہی کھیل کا رخ بدل دیا۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 88 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ کپتان تھریل کیلڈ خاص طور پر جارحانہ انداز میں نظر آئیں اور انہوں نے اسپنرز کو سخت نشانہ بناتے ہوئے 71 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

دوسری جانب فی موریس نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ تاہم، قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ اپنی نصف سنچری (52 رنز) مکمل کرنے کے بالکل اگلے ہی گیند پر ایلکس گریفیٹس کی گیند پر ڈینی گبسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئیں۔ تھریل کیلڈ کو لولا ہیرس نے بولڈ کر کے پویلین بھیج دیا۔

اننگز کے آخری حصے میں ایلسا لیسٹر اور کیٹ کراس نے 20، 20 رنز بنا کر اسکور میں اضافہ کیا، جس کے بعد لنکشائر کی پوری ٹیم 8 وکٹوں کے نقصان پر 259 رنز بنا سکی۔ سومرسیٹ کی جانب سے ایلکس گریفیٹس سب سے کامیاب بولر رہیں جنہوں نے 51 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔

سومرسیٹ کا جواب اور ابتدائی جھٹکے

260 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سومرسیٹ کی شروعات پرسکون رہی، لیکن انہیں جلد ہی کچھ جھٹکے لگے۔ اوپنر بیکس اوڈجرز 17 رنز بنا کر مہیکا گور کی گیند پر آؤٹ ہوئیں۔ اس کے بعد انگلینڈ کی مایہ ناز اسپنر صوفیہ ایکلسٹون نے اپنی جادوئی اسپن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیام ہالینڈ کو 25 رنز پر بولڈ کر دیا۔

سومرسیٹ کی کپتان صوفی لف بھی زیادہ دیر تک میدان میں نہ رہ سکیں اور وہ ڈارسی کارٹر کی گیند پر صرف 10 رنز بنا کر کیٹ کراس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئیں۔ ایک وقت پر سومرسیٹ کا اسکور 132 رنز پر 4 وکٹیں تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ لنکشائر میچ میں واپسی کر رہی ہے۔

نائٹ اور گبسن کی میچ وننگ پارٹنرشپ

جب ٹیم دباؤ میں تھی، تب ہیدر نائٹ اور ڈینی گبسن نے ذمہ داری سنبھالی۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے مل کر ایک ایسی شراکت قائم کی جس نے لنکشائر کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ دونوں نے مل کر 53 رنز کی شراکت قائم کی۔ ہیدر نائٹ نے تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے 63 رنز بنائے، لیکن وہ صوفیہ ایکلسٹون کا شکار بن گئیں۔

نائٹ کی روانگی کے بعد ڈینی گبسن نے جارحانہ انداز اپنایا اور رن ریٹ کو تیزی سے بڑھایا۔ گبسن نے اپنی 60 رنز کی اننگز میں دو چھکے اور آٹھ چوکے لگا کر لنکشائر کے بولرز کو بے بس کر دیا۔ اگرچہ ایکلسٹون نے آخر کار گبسن کو بھی آؤٹ کر دیا، لیکن تب تک سومرسیٹ جیت کے بہت قریب پہنچ چکی تھی۔

آخری لمحات اور فتح

میچ کے اختتامی مراحل میں چارلی ڈین (21 ناٹ آؤٹ) اور جس ہیزل (21 ناٹ آؤٹ) نے کوئی خطرہ مول نہیں لیا اور 48ویں اوور میں سومرسیٹ کو جیت کی منزل تک پہنچا دیا۔ سومرسیٹ نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 260 رنز کا ہدف حاصل کر لیا اور 13 گیندیں باقی رہ서 4 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔

میچ کے اہم نکات:

  • لنکشائر: 259/8 (تھریل کیلڈ 71، موریس 52)
  • سومرسیٹ: 260/6 (ہیدر نائٹ 63، ڈینی گبسن 60)
  • بہترین بولنگ (سومرسیٹ): ایلکس گریفیٹٹس 3-51
  • بہترین بولنگ (لنکشائر): صوفیہ ایکلسٹون 3-46

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *