Bangladesh Cricket

سورو گنگولی کا سنسنی خیز انکشاف: سچن اور ڈریوڈ سے میچ فکسنگ پر کیا سوال کیا؟

Riya Sen · · 1 min read

بھارتی کرکٹ کا تاریک دور اور سورو گنگولی کے انکشافات

90 کی دہائی کا آخری حصہ اور 2000 کی دہائی کا آغاز بھارتی کرکٹ کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کرکٹ کا میدان شک و شبہات، بدعنوانی اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کی تصویر بن چکا تھا۔ میچ فکسنگ کے اسکینڈلز نے کھیل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور شائقین کا اپنے ہیروز پر سے بھروسہ اٹھنے لگا تھا۔ ہر غیر متوقع شکست یا کسی کھلاڑی کی معمولی سی غلطی کو فکسنگ کی عینک سے دیکھا جانے لگا تھا۔

اسی پس منظر میں سابق کپتان سورو گنگولی نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں ایسی باتیں شیئر کی ہیں جنہوں نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ راج شمانی کے پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے گنگولی نے اعتراف کیا کہ جب وہ کپتان بنے تو انہوں نے ذاتی طور پر سچن ٹنڈولکر، راہول ڈریوڈ اور انیل کمبلے سے پوچھا تھا کہ کیا انہیں کبھی میچ فکسنگ کے لیے اپروچ کیا گیا؟

Sourav Ganguly. (Credits: X.com)

‘کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟’ گنگولی کے تجسس کی کہانی

سورو گنگولی کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اس معاملے کی گہرائی سے بالکل ناواقف تھے کیونکہ ان سے کبھی کسی نے اس سلسلے میں رابطہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے بتایا: “وہ مسائل جن کا بھارتی ٹیم کو میرے کپتان بننے سے ٹھیک پہلے سامنا تھا – یعنی بیٹنگ اور میچ فکسنگ – مجھے ان چیزوں کے بارے میں علم تک نہیں تھا۔ میں سچن اور راہول سے پوچھتا رہتا تھا کہ ‘کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟’ کیا کسی نے تم سے رابطہ کیا؟ کیونکہ مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا تھا۔”

گنگولی نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا: “میں نے سچن سے پوچھا، ‘تجھے کسی نے پوچھا؟’ اس نے کہا نہیں۔ ہم سب دونوں فارمیٹس – ٹیسٹ اور ون ڈے – کھیلتے تھے۔ میں نے انیل کمبلے سے بھی پوچھا، اس نے بھی کہا ‘نہیں، مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا’۔ لہذا، میں اس بارے میں زیادہ پراعتماد نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے اور کیسے ہوتا ہے۔ میرے سامنے صرف کپتانی کی ذمہ داری تھی، اس لیے میں نے ان چیزوں کو اپنے ذہن پر سوار نہیں کیا۔”

ایک بکھری ہوئی ٹیم کی قیادت سنبھالنا

تصور کیجیے کہ آپ کو ایک ایسی ٹیم کا کپتان بنا دیا جائے جہاں سینیئر کھلاڑیوں پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلا رہے ہوں اور ڈریسنگ روم کا ماحول انتہائی بوجھل ہو۔ گنگولی نے جب قیادت سنبھالی تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج میچ جیتنا نہیں بلکہ شائقین کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا تھا۔

گنگولی کی عظمت اس بات میں ہے کہ انہوں نے نہ صرف ٹیم کو دوبارہ متحد کیا بلکہ بھارتی کرکٹ میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا اور ٹیم کو فکسنگ کے سائے سے نکال کر جیت کی راہ پر گامزن کیا۔ آج بھی انہیں بھارتی کرکٹ کا سب سے بااثر کپتان اسی لیے مانا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں ٹیم کو استحکام بخشا اور اسے بیرون ملک فتوحات حاصل کرنا سکھائیں۔

پہلا ٹیم اجلاس اور سینیئر کھلاڑیوں کا احترام

اپنی کپتانی کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے گنگولی نے ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ انہوں نے بتایا: “مجھے اب بھی یاد ہے کہ ہمارا پہلا میچ کوچی میں تھا۔ میچ کی شام مجھے ٹیم میٹنگ سے خطاب کرنا تھا۔ میں نے اپنی اہلیہ ڈونا کو بتایا کہ ازہر اور سچن جیسے کھلاڑی میرے کپتان رہ چکے ہیں، میں انہیں کیسے بتاؤں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟”

انہوں نے مزید کہا: “میں نے ڈونا سے کہا کہ میں میٹنگ مختصر رکھوں گا کیونکہ جتنا زیادہ میں بولوں گا، اتنی ہی زیادہ مجھے وضاحتیں دینی پڑیں گی۔ چنانچہ ہم نے میٹنگ تقریباً 15 منٹ میں ختم کر دی اور میں نے صرف چند اہم باتیں کیں۔ اگلے دن ہم جیت گئے اور اس کے بعد جمشید پور میں ہونے والے میچ میں میں نے سنچری بنائی۔ آہستہ آہستہ سب کچھ اپنی جگہ پر آنا شروع ہو گیا اور ٹیم ایک نئے رخ پر چل پڑی۔”

گنگولی کی میراث: اعتماد کی بحالی

سورو گنگولی کے انکشافات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ایک بہترین کپتان تھے بلکہ ایک ایماندار انسان بھی تھے جنہوں نے اپنی ٹیم کے ستونوں پر مکمل بھروسہ کیا۔ سچن، ڈریوڈ اور کمبلے جیسے لیجنڈز کے ساتھ ان کی یہ گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ٹیم کے اندر شفافیت چاہتے تھے۔

بھارتی کرکٹ کو اس دور میں گنگولی جیسی مضبوط شخصیت کی ضرورت تھی جس نے ٹیم کو ایک ایسی سمت دی جہاں صرف کھیل اور کارکردگی کی اہمیت تھی۔ ان کی قیادت میں بھارت نے نہ صرف فتوحات حاصل کیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ بھارتی کرکٹ اب کسی بھی قسم کی گندگی سے پاک ہو کر ایک نئی قوت بن کر ابھر رہی ہے۔ آج کی جدید بھارتی کرکٹ کی بنیاد انہی دنوں میں رکھی گئی تھی جب ‘دادا’ نے ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.