سورو گنگولی کا انکشاف: میچ فکسنگ کے دور میں سچن اور راہول سے کیا پوچھا؟
بھارتی کرکٹ کا مشکل ترین دور
سورو گنگولی، جنہیں پیار سے ‘پرنس آف کولکتہ’ کہا جاتا ہے، نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ ان کی کپتانی کا ابتدائی دور کتنا مشکل تھا۔ بھارتی کرکٹ اس وقت محمد اظہرالدین کے دور میں سامنے آنے والے میچ فکسنگ اسکینڈل کے گہرے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس واقعے نے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ شائقین کا اعتماد بھی بری طرح مجروح کیا تھا۔
میچ فکسنگ کا تاریک سایہ
2000 کی دہائی کا یہ بدنام زمانہ اسکینڈل بھارتی کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ محمد اظہرالدین اور اجے جڈیجہ جیسے بڑے ناموں کے ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے بعد ٹیم کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ ہر معمولی شکست پر بھی شائقین کی جانب سے فکسنگ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گنگولی نے تسلیم کیا کہ وہ اس وقت ان معاملات سے بالکل ناواقف تھے اور یہ سب ان کے لیے بہت حیران کن تھا۔
سچن اور راہول سے کیا سوال کیا؟
ایک پوڈکاسٹ کے دوران گنگولی نے بتایا کہ جب انہوں نے کپتانی سنبھالی تو انہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ٹیم کے اندر کوئی گڑبڑ تو نہیں ہو رہی۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں، خاص طور پر سچن ٹنڈولکر اور راہول ڈریوڈ سے براہ راست پوچھا کہ کیا کبھی کسی نے انہیں میچ فکسنگ کے لیے اپروچ کیا ہے؟ گنگولی کے الفاظ میں: ‘میں نے سچن سے پوچھا کہ کیا کبھی کسی نے تم سے رابطہ کیا؟ انہوں نے انکار کیا۔ میں نے انیل کمبلے سے بھی پوچھا تو انہوں نے بھی نفی میں جواب دیا۔’
کپتانی کی ابتدائی گھبراہٹ
گنگولی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ کپتان بنے تو ان کی ٹیم میں سچن، انیل کمبلے اور جواگل سری ناتھ جیسے سینیئرز موجود تھے جو خود ماضی میں کپتانی کر چکے تھے۔ انہیں اپنی پہلی ٹیم میٹنگ کے حوالے سے شدید بے چینی تھی۔ انہوں نے اپنی اہلیہ ڈونا سے بھی کہا کہ وہ ٹیم میٹنگ کو مختصر رکھیں گے تاکہ کسی بڑی بحث سے بچا جا سکے۔ تاہم، کوچی میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی فتح نے سب کچھ بدل دیا۔
بھارتی کرکٹ میں ایک نیا انقلاب
سورو گنگولی نے 27 سال کی عمر میں ٹیم کی کمان سنبھالی اور اگلے پانچ سالوں میں بھارتی کرکٹ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ ان کی قیادت میں بھارت نے بیرون ملک فتوحات حاصل کیں، پاکستان کے خلاف تاریخی سیریز جیتی، اور 2003 کے ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ گنگولی کی سب سے بڑی کامیابی نئی نسل کے کھلاڑیوں جیسے یوراج سنگھ، ایم ایس دھونی، وریندر سہواگ، ظہیر خان اور ہربھجن سنگھ کو تیار کرنا تھا۔
خلاصہ
سورو گنگولی کا دور بھارتی کرکٹ کے لیے ایک نئے عزم کی علامت تھا۔ انہوں نے جس طرح ٹیم کو بحران سے نکالا اور اسے عالمی سطح پر ایک فاتح ٹیم بنایا، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ ان کے شفاف طرزِ قیادت نے نہ صرف ٹیم کا اعتماد بحال کیا بلکہ بھارتی شائقین کو کرکٹ پر دوبارہ بھروسہ کرنے کا موقع دیا۔
