Latest Cricket News

کرشنامچاری سری کانت کی رتوراج گائیکواڈ پر سخت تنقید: ‘ایک عام کھلاڑی’

Aditya Kulkarni · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: رتوراج گائیکواڈ تنقید کی زد میں

آئی پی ایل 2026 کے موجودہ سیزن میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے کپتان رتوراج گائیکواڈ ایک بار پھر کرکٹ ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کی تنقید کا مرکز بن گئے ہیں۔ لکھنؤ میں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے ہاتھوں شکست کے بعد، سابق بھارتی کپتان اور چیف سلیکٹر کرشنامچاری سری کانت نے گائیکواڈ کی قیادت اور بیٹنگ پر کھل کر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سری کانت کا سخت تبصرہ

اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سری کانت نے رتوراج گائیکواڈ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس پورے سیزن میں ایک ‘عام کھلاڑی’ سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ سری کانت کا ماننا ہے کہ چنئی کی ناکامیوں کے پیچھے اوپننگ جوڑی کی مسلسل ناقص کارکردگی ایک بڑا سبب ہے۔ انہوں نے کہا، ‘سنجو سیمسن اور رتوراج گائیکواڈ اس پورے سیزن میں ایک بھی قابل ذکر پارٹنرشپ قائم نہیں کر سکے۔ اوپنرز کسی بھی ٹیم کی کامیابی کی کنجی ہوتے ہیں، لیکن گائیکواڈ کی کارکردگی انتہائی معمولی رہی ہے۔’

لکھنؤ کے خلاف مایوس کن کارکردگی

جمعہ کو کھیلے گئے میچ میں جہاں چنئی کو جیت کی اشد ضرورت تھی، وہاں دونوں اوپنرز ناکام رہے۔ سنجو سیمسن نے 20 گیندوں پر 20 رنز بنائے جبکہ رتوراج گائیکواڈ صرف 13 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ سری کانت نے مزید کہا کہ دونوں کھلاڑیوں نے لکھنؤ کے بولرز کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور ٹیم کو وہ شروعات فراہم نہ کر سکے جس کی سی ایس کے کو توقع تھی۔

چنئی سپر کنگز کا پلے آف کا سفر

اس شکست نے چنئی سپر کنگز کو پوائنٹس ٹیبل پر ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب سی ایس کے کو پلے آف میں جگہ بنانے کے لیے اپنے باقی دونوں میچوں میں نہ صرف فتح حاصل کرنی ہوگی بلکہ اپنے نیٹ رن ریٹ کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ تیسرا سال ہوگا جب سی ایس کے لیگ اسٹیج سے ہی باہر ہو جائے گی۔

میچ کا خلاصہ

لکھنؤ سپر جائنٹس، جو پہلے ہی پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو چکی تھی، نے اس میچ میں شاندار کھیل پیش کیا۔ مچل مارش کی 90 رنز کی اننگز اور جوش انگلس کے ساتھ ان کی 135 رنز کی شراکت نے چنئی کے 187 رنز کے ہدف کو آسان بنا دیا۔ نکولس پوران کی آخر میں جارحانہ بیٹنگ نے لکھنؤ کو ایک تسلی بخش فتح دلائی۔

مستقبل کے چیلنجز

اب چنئی کا اگلا مقابلہ 18 مئی کو حیدرآباد میں سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف اور 21 مئی کو احمد آباد میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف ہے۔ سری کانت کے مطابق، یہ دونوں میچ سی ایس کے کے لیے ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گائیکواڈ پر اب دباؤ ہے کہ وہ ایک کپتان اور اوپنر کے طور پر خود کو ثابت کریں تاکہ ٹیم کو اگلے مرحلے تک پہنچایا جا سکے۔

کیا تبدیلی کی ضرورت ہے؟

کرکٹ حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا چنئی کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ سری کانت جیسے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ٹیم کو ٹورنامنٹ میں برقرار رہنا ہے تو قیادت کے شعبے میں زیادہ ذمہ داری اور بیٹنگ آرڈر میں بہتری ناگزیر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا گائیکواڈ اگلے میچوں میں اپنے ناقدین کو خاموش کر پاتے ہیں یا نہیں۔

  • سی ایس کے کو پلے آف کے لیے تمام باقی میچ جیتنے ہوں گے۔
  • اوپننگ جوڑی کو پاور پلے میں بہتر آغاز فراہم کرنا ہوگا۔
  • نیٹ رن ریٹ کو بہتر بنانے کے لیے جارحانہ بیٹنگ کی ضرورت ہے۔

کرکٹ شائقین کی نظریں اب 18 مئی کے میچ پر مرکوز ہیں جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ کیا چنئی سپر کنگز کی اس سیزن میں واپسی ممکن ہے یا نہیں۔