[CRK]
سرے کی مسلسل تیسری جیت: ڈورہم کی کوششیں رہیں ناکام
میٹرو بینک ون ڈے کپ کے ایک دلچسپ مقابلے میں سرے نے اپنی بہترین فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈورہم کو 3 وکٹوں سے شکست دے دی۔ کیا اوول کے میدان میں کھیلے گئے اس میچ میں سرے نے نہ صرف اپنی جیت کا سلسلہ برقرار رکھا بلکہ ٹورنامنٹ میں اپنی برتری کو بھی ثابت کیا۔ اگرچہ ڈورہم کی جانب سے ہولی ارمٹیج نے ایک شاندار سنچری اسکور کی، لیکن سرے کی ڈینی وائٹ ہوج کی 96 رنز کی برق رفتار اننگز نے میچ کا رخ بدل دیا۔
ڈورہم کی بیٹنگ اور ہولی ارمٹیج کی سنچری
ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرنے والی ڈورہم کی شروعات کچھ کمزور رہی جب ایما مارلو سستے میں آؤٹ ہو گئیں۔ تاہم، تجربہ کار بلے باز ہولی ارمٹیج نے آتے ہی بیٹنگ سنبھالی۔ انہوں نے اپنی اننگز کے آغاز میں ٹلی کورٹین کولمین کی ایک گیند پر اندرونی کنارے سے گیند لگنے کے خطرے کا سامنا کیا، لیکن وہ ثابت قدم رہیں۔
ارمٹیج نے میٹلن براؤن کے ایک اوور میں تین چوکے لگا کر اپنی اننگز میں تیزی لائی۔ اگرچہ تاہلیا ولسن ایلس مونوگان کی ایک باؤنسر کا شکار ہوئیں، لیکن ارمٹیج اور میڈی ویلیئرز کے درمیان ہونے والی شراکت نے ڈورہم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ ارمٹیج نے محض 60 گیندوں پر 50 رنز مکمل کیے، جس میں 8 چوکے شامل تھے۔ دوسری جانب ویلیئرز نے بھی جارحانہ انداز اپنایا اور مونوگان کے ایک اوور میں رنز کی بارش کر دی۔
ویلیئرز نے ارمٹیج کے فوراً بعد اپنی نصف سنچری مکمل کی اور دونوں کے درمیان ایک شاندار 100 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ تاہم، اس شراکت کا خاتمہ تب ہوا جب ویلیئرز 55 رنز بنا کر ایلس کیپسی کے ہاتھوں لان آن باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہوئیں۔ ہولی ارمٹیج نے اپنی اننگز کو جاری رکھتے ہوئے 123 گیندوں پر 106 رنز بنائے، جو ان کی لسٹ اے کی چھٹی سنچری تھی۔ وہ آخر کار پیج سکول فیلڈ کو کیچ فراہم کر کے آؤٹ ہوئیں، جس کے بعد ڈورہم نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 256 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔
لورین فائلر کا تباہ کن سپیل اور سرے کی مشکلات
257 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سرے کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ ڈورہم کی تیز گیند باز لورین فائلر نے اپنی رفتار اور درستگی سے سرے کے ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ فائلر نے پہلے ہی اوور میں پیج سکول فیلڈ کے سٹمپس اڑا دیے اور پھر اگلے ہی لمحے ایلس کیپسی کو ایک شاندار کیچ کے ذریعے پویلین بھیج دیا۔
فائلر کی تباہ کاری یہاں نہیں رکی؛ انہوں نے صرف نو گیندوں کے اندر تین وکٹیں حاصل کر کے سرے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ ایلس ڈیوڈسن رچرڈز کے مڈل سٹمپ اڑانا ان کے سپیل کا سب سے یادگار لمحہ تھا۔ سرے کی کپتان کیرا چتھلی نے فائلر کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور ان کے چوتھے اوور میں تین چوکے لگائے، لیکن ویلیئرز نے مونوگان کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے سرے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
ڈینی وائٹ ہوج کا ریسکیو ایکٹ اور فتح
جب سرے کی ٹیم چار وکٹوں کے نقصان پر رنز کی رفتار برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہی تھی، تب ڈینی وائٹ ہوج میدان میں آئیں اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ وائٹ ہوج نے کٹ شاٹس اور لوفٹڈ ڈرائیوز کا بھرپور استعمال کیا اور جارحانہ بیٹنگ کا آغاز کیا۔ ان کا ساتھ کپتان کیرا چتھلی نے دیا، جنہوں نے ایک رن فی بال کی رفتار سے بیٹنگ کرتے ہوئے 58 رنز بنائے اور اپنی نصف سنچری مکمل کی۔
اگرچہ چتھلی کو لورین فائلر نے باؤنسر پر آؤٹ کر دیا، لیکن وائٹ ہوج اپنی اننگز میں مزید مضبوط ہوئیں۔ انہوں نے جیمما سپینس کے ساتھ مل کر محض 31 گیندوں میں 50 رنز کی شراکت قائم کی۔ لورین فائلر نے اپنی پانچویں وکٹ جیمما سپینس کی شکل میں حاصل کی، لیکن تب تک سرے جیت کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔
ڈینی وائٹ ہوج نے 83 گیندوں پر 96 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اگرچہ وہ سنچری سے محض 4 رنز دور رہ کر کیچ آؤٹ ہو گئیں، لیکن ان کی اس اننگز نے سرے کو 80 گیندیں باقی رہتے ہوئے 3 وکٹوں کے نقصان پر جیت دلا دی۔
میچ کا خلاصہ اور تجزیہ
- ڈورہم: 256/8 (ہولی ارمٹیج 106، میڈی ویلیئرز 55)
- سرے: 258/7 (ڈینی وائٹ ہوج 96، کیرا چتھلی 58)
- بہترین باؤلنگ: لورین فائلر (5 وکٹیں فی 59 رنز)
اس میچ کا فیصلہ کن لمحہ ڈینی وائٹ ہوج اور کیرا چتھلی کے درمیان ہونے والی شراکت تھی، جس نے لورین فائلر کے خطرناک سپیل کے اثرات کو ختم کر دیا۔ سرے نے اپنی متوازن بیٹنگ اور دباؤ میں پرفارم کرنے کی صلاحیت کی بدولت یہ میچ جیتا اور ٹورنامنٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی۔