سلہٹ ٹیسٹ: تیج الاسلام نے شان مسعود کے ساتھ میدان میں ہونے والی گفتگو کا راز کھول دیا
سلہٹ ٹیسٹ: میدان کے اندر کی کہانی تیج الاسلام کی زبانی
سلہٹ ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیشی ٹیم نے اپنی شاندار کارکردگی سے پاکستان کے سامنے 437 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف رکھ دیا ہے۔ بنگلہ دیشی اننگز کو سنبھالنے میں مشفیق الرحیم کی سنچری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی بدولت میزبان ٹیم میچ میں واضح طور پر حاوی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم اس میچ کے دوران صرف کھیل ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی گرما گرمی بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
مشفیق الرحیم اور شان مسعود کے درمیان کیا ہوا؟
میچ کے تیسرے دن جب مشفیق الرحیم بیٹنگ کر رہے تھے، تو انہوں نے لٹن داس اور پھر تیج الاسلام کے ساتھ اہم پارٹنرشپ قائم کیں۔ خاص طور پر تیج الاسلام کے ساتھ ان کی 77 رنز کی شراکت داری نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ اسی دوران، پاکستانی کپتان شان مسعود اور مشفیق الرحیم کے درمیان میدان میں بحث دیکھی گئی۔
دن کے کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس میں تیج الاسلام نے اس واقعے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب آپ میدان میں ہوتے ہیں تو کئی چیزیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیم کافی دیر سے فیلڈنگ کر رہی تھی، جس کی وجہ سے شاید ان کا مزاج کچھ تلخ ہو گیا تھا۔ تیج نے مزید کہا: ‘مشفیق بھائی نے کچھ نہیں کہا، وہ صرف امپائر کے ساتھ نارمل بات کر رہے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے اسے کیا سمجھا، لیکن انہوں نے اپنے انداز میں ردعمل دیا۔’
سعود شکیل کا طنزیہ جملہ اور تیج کا جواب
تیج الاسلام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہیں سعود شکیل کی جانب سے ‘سلیجنگ’ کا سامنا کرنا پڑا۔ تیج کے مطابق، سعود شکیل نے انہیں کہا کہ ‘آؤ اور بیٹنگ کرو’، جس پر تیج نے انتہائی پرسکون انداز میں جواب دیا کہ ‘یہ ان کا کام نہیں، بلکہ میرا کام ہے’۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد، تیج الاسلام نے ایک شاندار چوکا لگایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ سعود شکیل کی سلیجنگ کا جواب تھا، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب آپ بیٹنگ کرنے جاتے ہیں تو ایسی باتیں ہونا معمول کی بات ہے، اور گیند ایسی تھی کہ اسے باؤنڈری کے باہر بھیجا جا سکتا تھا۔
لوئر آرڈر کی ذمہ داری اور ٹیم کی بہتری
تیج الاسلام نے مشفیق الرحیم کے ساتھ مل کر 22 قیمتی رنز بنائے، جس نے بنگلہ دیش کو ایک بڑی برتری دلانے میں مدد کی۔ اس سے قبل پہلی اننگز میں بھی انہوں نے لٹن داس کے ساتھ ایک اہم شراکت داری نبھائی تھی۔ اپنی بیٹنگ کارکردگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تیج نے کہا کہ ماضی میں لوئر آرڈر کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جاتے تھے، لیکن اب ہر کھلاڑی زیادہ سنجیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ‘کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑی اب بہت زیادہ پرعزم ہیں۔ اگر ہم لوئر آرڈر میں تھوڑا بھی حصہ ڈال سکیں تو یہ پوری ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ اگر میں اپنی باؤلنگ کے ساتھ 20 سے 30 رنز بھی بنا سکوں تو یہ ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا پلس پوائنٹ ہے۔’
نتیجہ
بنگلہ دیشی ٹیم اب ایک ایسی پوزیشن میں ہے جہاں سے وہ پاکستان کے لیے ایک تاریخ رقم کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے۔ تیج الاسلام کی بیٹنگ میں ذمہ داری اور میدان میں ان کا پرسکون رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم اب ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کوشاں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم اس بڑے ہدف کے تعاقب میں کس طرح کا ردعمل دیتی ہے۔
