[CRK]
تہمیم اقبال کی بی سی بی کے صدر کے طور پر نئی ذمہ داری: ایک نئے دور کا آغاز
بنگلہ دیش کرکٹ میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں سابق اسٹار بلے باز تہمیم اقبال نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کے صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ تہمیم اقبال اس وقت بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی اس تعیناتی کو کرکٹ کے مداحوں اور کھلاڑیوں دونوں کی جانب سے بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اس خوشی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تہمیم نے حال ہی میں اپنے پیشہ ورانہ کرکٹ کیریئر کو خیرباد کہا ہے، جس کی وجہ سے وہ موجودہ دور کے کھلاڑیوں کے مسائل، ان کی ضروریات اور میدان کے دباؤ کو کسی بھی عام منتظم کے مقابلے میں بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
مہیدی حسن میرز کا ردعمل: “وہ ہماری ضروریات کو سمجھتے ہیں”
بنگلہ دیش کے ون ڈے کپتان مہیدی حسن میرز نے تہمیم اقبال کی قیادت پر اپنی خوشی کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ میرز کا ماننا ہے کہ جب ایک ایسا شخص بورڈ کی قیادت کرتا ہے جس نے خود سالوں تک بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کھیلی ہو، تو کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فقدان ختم ہو جاتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف آنے والی سیریز سے قبل 16 اپریل کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران، میرز نے بتایا کہ ان کی تہمیم اقبال سے بات چیت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا: “جی ہاں، میری صدر صاحب سے بات ہوئی ہے۔ ٹیم اس وقت بہترین فارم میں ہے اور انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی ہے، جس سے ہمارا اعتماد مزید بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے ہمیں یہی مشورہ دیا ہے کہ ہم جس انداز میں کھیل رہے ہیں، اسے برقرار رکھیں۔”
انتظامی عدم استحکام اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ سوچ
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کرکٹ بورڈ میں انتظامی تبدیلیاں آتی ہیں یا سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، تو اس کا اثر براہ راست کھلاڑیوں کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ تاہم، مہیدی حسن میرز نے اس حوالے سے ایک بہت ہی پیشہ ورانہ نقطہ نظر پیش کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بورڈ میں حالیہ تبدیلیوں اور ماحول میں عدم استحکام نے کھلاڑیوں کو متاثر کیا ہے، تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا۔
میرز نے واضح کیا کہ ٹیم کا پورا فوکس صرف کھیل پر ہے: “ہم اپنی تربیت معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باہر کیا ہو رہا ہے، اس سے ہم بطور پیشہ ور کرکٹرز متاثر نہیں ہوتے۔ ہمارا اصل کام میدان میں کارکردگی دکھانا ہے، اور ہم بیرونی مسائل کے بارے میں نہیں سوچتے۔”
سابق کھلاڑی کا صدر بننا: ایک اسٹریٹجک فائدہ
تہمیم اقبال کی تعیناتی صرف ایک انتظامی تبدیلی نہیں ہے بلکہ اسے ایک اسٹریٹجک فائدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مہیدی حسن میرز نے اس بات پر زور دیا کہ تہمیم کا بطور کھلاڑی حالیہ تجربہ ٹیم کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
- باہمی ہم آہنگی: تہمیم اور موجودہ کھلاڑیوں نے طویل عرصے تک ایک ساتھ کھیلا ہے، جس کی وجہ سے ان کے درمیان پہلے سے ایک اعتماد کا رشتہ موجود ہے۔
- بہتر تفہیم: ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے تہمیم جانتے ہیں کہ ڈریسنگ روم کا ماحول کیسا ہوتا ہے اور کھلاڑیوں کو کس قسم کی سہولیات اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
- جدید کرکٹ کی سمجھ: چونکہ انہوں نے حال ہی میں ریٹائرمنٹ لی ہے، اس لیے وہ جدید کرکٹ کے رجحانات اور کھلاڑیوں کی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔
میرز نے مزید کہا: “ہم نے ایک ساتھ کھیلا ہے، اس لیے وہ ہمیں بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں—ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے اور ہم کیا ترجیح دیتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے ابھی حال ہی میں ریٹائرمنٹ لی ہے، اس لیے یہ کھلاڑیوں کے لیے ایک انتہائی مثبت بات ہے۔”
مستقبل کی توقعات
تہمیم اقبال کی قیادت میں بی سی بی سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے حقوق اور ان کی بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔ خاص طور پر نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف سیریز سے پہلے تہمیم کی حوصلہ افزائی نے ٹیم میں ایک نیا جوش بھر دیا ہے۔ اگر انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے درمیان اسی طرح ہم آہنگی رہی، تو بنگلہ دیش کرکٹ میں مزید ترقی کے امکانات روشن ہیں۔
مجموعی طور پر، تہمیم اقبال کا بطور صدر آنا بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے ایک نئی امید لے کر آیا ہے، جہاں اب فیصلے صرف فائلوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ میدان کے تجربے کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔