[CRK] تمیم اقبال کا بی سی بی کی صدارت، خواتین کی سیکیورٹی اور کرکٹ کی ترقی پر اہم بیان
[CRK]
تمیم اقبال کا بی سی بی کی صدارت، خواتین کی سیکیورٹی اور کرکٹ کی ترقی پر اہم بیان
تمیم اقبال، بنگلہ دیش کرکٹ کے سابق کپتان، اب کرکٹ بورڈ کے ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر اپنی نئی ذمہ داریوں پر فائز ہیں۔ ابھی ایک ماہ بھی نہیں گزرا کہ ان کے اقدامات کو کھلاڑیوں، ملازمین اور شائقین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔
کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے فوری اقدامات
چارج سنبھالتے ہی تمیم نے مرد اور خواتین دونوں کرکٹرز کے میچ فیس اور ماہانہ تنخواہیں بڑھا دیں۔ انہوں نے شائقین کے لیے بھی اہم فیصلہ کرتے ہوئے سٹیڈیمز میں کھانے کی قیمتیں کم کر دیں۔ اس فیصلے نے عام مداحوں کو بھی احساس دلایا کہ کرکٹ بورڈ ان کی فکر کرتا ہے۔
تمیم نے ایک انٹرویو میں کہا: “شائقین ہمارے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ لیکن کیا ہم انہیں آرام دہ ماحول فراہم کر رہے ہیں؟ جو شخص 200 ٹکہ (تقریباً 1.63 ڈالر) ٹکٹ پر خرچ کرتا ہے، وہ 250 ٹکہ کی بیریانی کیسے خرچ کر سکتا ہے؟ بین الاقوامی میچوں میں بورڈ سب کے لیے مفت پینے کا پانی فراہم کر سکتا ہے۔”
سٹیڈیم کی خستہ حالی اور جدیدیکاری کی ضرورت
تمیم نے میرپور اسٹیڈیم کی خستہ حالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ وہ کہتے ہیں: “میں نے دیکھا کہ اسٹیڈیم کے ٹوائلٹس اتنے خراب ہیں کہ کوئی والد اپنے بچے کو وہاں لے جانا پسند نہیں کرے گا۔ میں کنٹرول نہیں کر سکتا کہ بنگلہ دیش کیسے بلے بازی یا گیند بازی کرتا ہے، لیکن میں کنٹرول کر سکتا ہوں کہ شائق کس طرح کے ماحول میں میچ دیکھتا ہے۔”
خواتین کرکٹرز کی سلامتی کو ترجیح
تمیم نے خواتین کرکٹ کی ترقی کے حوالے سے واضح کیا کہ پہلی ترجیح ان کی سیکیورٹی اور فلاح و بہبود ہے۔ وہ کہتے ہیں: “ماضی میں ہونے والے واقعات کے بعد، اب ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ ہماری کھلاڑیوں کو محفوظ ماحول ملے۔ ماں باپ اپنی بیٹیوں کے رنز یا وکٹس سے زیادہ ان کی حفاظت کو لے کر فکر مند ہیں۔”
انتخابات اور طویل المدتی ویژن
تمیم نے واضح کیا کہ وہ بی سی بی کے آنے والے انتخابات میں صدارت کے لیے کھڑے ہوں گے۔ وہ مانچہ بندی کرتے ہیں: “میں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ہی کہہ دیا تھا کہ میں اگلے الیکشن میں صدر کے لیے دوڑوں گا۔ بنگلہ دیش کرکٹ کو ایک منصفانہ اور شفاف انتخاب کی ضرورت ہے۔”
کرکٹ کی تشہیر اور نئی نسل کو سپورٹ کرنا
تمیم مانتے ہیں کہ کرکٹ کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے، خاص طور پر سنہری نسل کے ریٹائر ہونے کے بعد۔ وہ کہتے ہیں: “جب ایک مقبول گروپ ریٹائر ہوتا ہے، تو کھیل کو دھچکا لگتا ہے۔ ہمیں اس نئی نسل کو ہیروز کی حیثیت دینی ہوگی، تاکہ بچے ان کی پیروی کریں۔”
ان کا ماننا ہے کہ بورڈ کا کام صرف کارکردگی نہیں بلکہ کرکٹ کو ملک گیر سطح پر فروغ دینا بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں: “ہم صرف شہروں میں کرکٹ نہیں چمانا چاہتے۔ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں تک کرکٹ پہنچانی ہوگی۔”
احترام اور مواصلت پر مبنی قیادت
تمیم کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت احترام، مواصلت اور تعاون پر مبنی ہوگی۔ وہ کہتے ہیں: “سب کنٹری میں جوان لیڈر کو قبول کرنا مشکل سمجھتے ہیں۔ میرا کام دکھانا ہے کہ عمر کچھ بھی ہو، دانش اور احترام سے کام لینا چاہیے۔ میں کسی کو ہدایت دینے نہیں آیا۔ میں اس کرسی پر اپنے جذبات، غصہ اور انا کو باہر رکھوں گا۔”
تمیم اقبال کی قیادت کا آغاز نہ صرف مثبت اقدامات سے ہوا بلکہ وہ کرکٹ کے تمام پہلوؤں پر ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر فیصلے لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ اسی رفتار سے کام جاری رکھیں، تو بنگلہ دیش کرکٹ ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔
