توحید ہردوئی کا تمیم اقبال کی قیادت پر مثبت ردعمل: بنگلہ دیش کرکٹ میں بڑی تبدیلیاں
بنگلہ دیش کرکٹ میں تمیم اقبال کا نیا دور: توحید ہردوئی کے اہم انکشافات
بنگلہ دیشی کرکٹ میں حالیہ دنوں میں قیادت کی سطح پر بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) میں انتظامی تبدیلیوں کے بعد سابق کپتان اور لیجنڈری اوپنر تمیم اقبال کو ایک ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ کے طور پر اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ان کے عہدہ سنبھالتے ہی بنگلہ دیشی کرکٹ کے ماحول میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے، جس کا اعتراف خود موجودہ کھلاڑی بھی کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی ٹیم کے ابھرتے ہوئے نوجوان بلے باز توحید ہردوئی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران تمیم اقبال کی قیادت اور ان کے اقدامات کی کھل کر تعریف کی ہے۔ ہردوئی کا کہنا ہے کہ تمیم اقبال کے آنے سے نہ صرف کھلاڑیوں کے مالی حالات میں بہتری آئی ہے بلکہ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے کا فقدان بھی ختم ہو گیا ہے۔
کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور تنخواہوں میں اضافہ
تمیم اقبال نے چارج سنبھالنے کے فوراً بعد جو سب سے اہم اور انقلابی قدم اٹھایا، وہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافہ تھا۔ بنگلہ دیش میں ایک طویل عرصے سے فرسٹ کلاس کرکٹرز کی تنخواہیں ایک ہی سطح پر رکی ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے ڈومیسٹک کرکٹرز کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔
توحید ہردوئی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا: “صرف میں ہی نہیں، بلکہ ٹیم کا ہر کھلاڑی اس مثبت تبدیلی کو محسوس کر رہا ہے۔ تمیم بھائی نے آتے ہی سب کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ ایک طویل عرصے سے فرسٹ کلاس کرکٹرز کی تنخواہیں ایک ہی جگہ منجمد تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بہت سے کھلاڑی اس قلیل رقم میں اپنے خاندانوں کی کفالت صحیح طریقے سے نہیں کر پا رہے تھے۔”
یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کسی بھی ملک کی کرکٹ کی بنیاد اس کا ڈومیسٹک ڈھانچہ ہوتا ہے۔ جب مقامی سطح پر کھیلنے والے کھلاڑی معاشی طور پر مستحکم ہوں گے، تو وہ کھیل پر زیادہ بہتر طریقے سے توجہ مرکوز کر سکیں گے۔
شائقین کرکٹ کے لیے سہولیات اور اسٹیڈیم کی بہتری
تمیم اقبال کے اقدامات صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے شائقین کرکٹ کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات شروع کیے ہیں۔ میرپور اسٹیڈیم، جو بنگلہ دیشی کرکٹ کا مرکز مانا جاتا ہے، وہاں تماشائیوں کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ہردوئی نے مزید بتایا کہ تمیم اقبال شائقین کے جذبات کی قدر کرتے ہیں: “انہوں نے شائقین کے لیے بھی بہت اچھے اقدامات کیے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ اب تک انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ بہترین ہے۔ کھلاڑیوں کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو ہر کوئی ان کے فیصلوں سے خوش ہے۔”
اس کے علاوہ، تمیم اقبال نے سابق اور موجودہ کرکٹرز کو عزت دینے کے لیے بھی نئے منصوبے متعارف کروائے ہیں، جس سے کرکٹ برادری میں ایک مثبت پیغام گیا ہے۔
سابق کھلاڑی کا صدر ہونا کیوں فائدہ مند ہے؟
توحید ہردوئی کے مطابق تمیم اقبال کے ساتھ کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ حال ہی میں کرکٹ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ جدید دور کی کرکٹ کے تقاضوں اور کھلاڑیوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔
ہردوئی کا کہنا تھا: “چونکہ انہوں نے حال ہی میں کھیلنا چھوڑا ہے، اس لیے ہر کھلاڑی بلا جھجھک صدر کے پاس جا کر اپنے دل کی بات کر سکتا ہے۔ کھلاڑیوں سے لے کر شائقین تک، انہوں نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ مثبت رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں مزید اچھی چیزیں سامنے آئیں گی۔”
بنگلہ دیش کرکٹ کا مستقبل اور نئی امیدیں
تمیم اقبال کی قیادت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اب ایک ایسے راستے پر گامزن نظر آتا ہے جہاں شفافیت اور کھلاڑیوں کے حقوق کو اولیت دی جا رہی ہے۔ جب ایک کھلاڑی انتظامیہ کی سربراہی کرتا ہے، تو وہ ان باریکیوں کو بہتر سمجھتا ہے جو عام طور پر پیشہ ور منتظمین کی نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔
توحید ہردوئی کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بنگلہ دیشی ڈریسنگ روم میں اب ایک ایسا ماحول بن چکا ہے جہاں کھلاڑی خود کو محفوظ اور قابلِ قدر محسوس کرتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو بنگلہ دیشی کرکٹ نہ صرف ڈومیسٹک سطح پر بلکہ بین الاقوامی میدانوں میں بھی مزید کامیابیاں سمیٹنے کے قابل ہو جائے گی۔
- کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں بروقت اضافہ۔
- ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کی بحالی۔
- شائقین کے لیے اسٹیڈیم میں بہتر ماحول۔
- انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے درمیان براہ راست رابطہ۔
مجموعی طور پر، تمیم اقبال کا یہ نیا کردار بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک نیک شگون ثابت ہو رہا ہے۔ توحید ہردوئی جیسے نوجوان کھلاڑیوں کا اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت میں اٹھایا گیا ہر قدم کھیل اور کھلاڑی دونوں کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔
