[CRK]
متحدہ عرب امارات کی کرکٹ میں ایک نیا انقلابی دور
متحدہ عرب امارات (UAE) کی کرکٹ تاریخ میں حال ہی میں ایک ایسا تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے جس نے نہ صرف مقامی کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پہلی بار، پانچ نمایاں کرکٹرز کو ‘نیچرلائزیشن’ کے عمل کے ذریعے یو اے ای کی شہریت عطا کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ اماراتی کرکٹ بورڈ اب اپنے کھیل کو مزید مستحکم اور عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے پرعزم ہے۔
جن کھلاڑیوں کو شہریت ملی
جن پانچ کھلاڑیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے ان میں خزیمہ تنویر، اجے کمار، اکشدیپ ناتھ، ہرپریت سنگھ بھاٹیہ اور ادیب عثمانی شامل ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی فی الحال نیپال کے دورے پر موجود 17 رکنی اسکواڈ کا حصہ ہیں، جہاں وہ دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور ایک سہ فریقی ون ڈے سیریز میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کھلاڑی اب پاسپورٹ ہولڈرز کی حیثیت سے یو اے ای کی نمائندگی کریں گے، جو ان کے کیریئر کے لیے ایک نیا موڑ ہے۔
روایتی طریقہ کار سے شہریت تک کا سفر
اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو یو اے ای میں کرکٹ کی تاریخ زیادہ تر تارکینِ وطن کے گرد گھومتی رہی ہے۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، کوئی بھی کھلاڑی جو تین سال تک ملک میں قیام کرتا، وہ یو اے ای کی ٹیم کے لیے کھیلنے کا اہل ہو جاتا تھا۔ اس سے پہلے فٹ بال، رگبی اور جوڈو جیسے کھیلوں میں کھلاڑیوں کو 2018 کے صدارتی حکم نامے کے بعد شہریت دی گئی تھی، لیکن کرکٹ کے میدان میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کھلاڑیوں کو باقاعدہ شہریت ملی ہے۔
کھلاڑیوں کے جذبات اور تاثرات
اجے کمار نے ‘دی نیشنل’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘جس دن میں نے یو اے ای میں قدم رکھا، میرا خواب اس ملک کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کرنا تھا۔ اب مجھے یہ موقع مل رہا ہے اور اس کے لیے میں یو اے ای حکام اور سپورٹ اسٹاف کا بے حد مشکور ہوں۔ میں نے یہاں ڈومیسٹک اور کلب لیول پر جو کرکٹ کھیلی ہے، اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔’
دوسری جانب، خزیمہ تنویر نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘یہ ایک ایسا احساس ہے جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جب آپ کو اپنی قوم کی نمائندگی کرنے کا موقع ملتا ہے، تو یہ زندگی کا سب سے بڑا لمحہ ہوتا ہے۔ ملک آپ پر اعتماد کر رہا ہے اور یہ ذمہ داری مجھے اور بہتر کارکردگی دکھانے پر اکساتی ہے۔ میں نے گزشتہ تین سالوں میں آئی ایل ٹی 20 (ILT20) اور ابوظہبی ٹی 10 میں حصہ لیا ہے، جہاں بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ بہت شاندار رہا ہے۔’
اماراتی کرکٹ کا مستقبل
یہ فیصلہ یقیناً یو اے ای کرکٹ کے لیے ایک بہتر مستقبل کی نوید ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ٹیم کی ساخت میں بہتری آئے گی بلکہ کھلاڑیوں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے۔ جب کھلاڑیوں کے پاس ملک کا پاسپورٹ ہوتا ہے، تو ان کی وابستگی اور کارکردگی میں ایک نئی روح پھونک دی جاتی ہے۔ امارات کرکٹ بورڈ (Emirates Cricket Board) کی یہ کاوشیں آنے والے وقتوں میں یو اے ای کو کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑی قوت بنانے کے لیے اہم ثابت ہوں گی۔
نتیجہ
خلاصہ یہ کہ خزیمہ، اجے، اکشدیپ، ہرپریت اور ادیب کا یہ سفر نہ صرف ان کی اپنی محنت کا ثمر ہے، بلکہ یہ ان تمام کرکٹرز کے لیے ایک مثال ہے جو یو اے ای میں اپنی پہچان بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ کرکٹ کی دنیا اب یو اے ای کی طرف مزید توقعات سے دیکھے گی، اور امید ہے کہ یہ کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔