عمر گل کی شاہین آفریدی کے ساتھ تلخ کلامی کی افواہوں پر خاموشی
عمر گل نے شاہین آفریدی کے ساتھ تنازعہ کی خبروں کو مسترد کر دیا
پاکستان کے باؤلنگ کوچ عمر گل نے بنگلہ دیش کے خلاف سلہٹ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران ٹیم کے سٹار فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ ہونے والی مبینہ تلخ کلامی کے حوالے سے پھیلی ہوئی افواہوں پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 2025-27 کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا دوسرا میچ جاری تھا۔
واقعہ کی حقیقت کیا تھی؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کلپ میں عمر گل اور شاہین آفریدی کو باؤنڈری لائن کے قریب کسی بات پر بحث کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاہین آفریدی نے کوچ کی ہدایات کو نظر انداز کیا ہے یا دونوں کے درمیان کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے۔ تاہم، عمر گل نے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
عمر گل نے پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ یہ گفتگو دراصل حسن علی کی چوٹ اور کنکشن سبٹیٹیوٹ (متبادل کھلاڑی) کے حوالے سے تھی۔ حسن علی میچ کے پہلے دن ایک کیچ پکڑنے کی کوشش میں سر کے بل گر گئے تھے، جس کی وجہ سے ٹیم مینجمنٹ کو ان کی صحت کے حوالے سے تشویش لاحق تھی۔
عمر گل کی وضاحت
عمر گل نے بتایا کہ شاہین آفریدی اس وقت ٹیم سے باہر تھے، اور چونکہ شاہین کی یہ عادت ہے کہ وہ باؤلنگ کرنے سے پہلے اپنی کہنیوں پر ٹیپ لگاتے ہیں، اس لیے وہ شاہین کو تیار رہنے کا کہہ رہے تھے۔ کوچ نے کہا، ‘میں شاہین سے کنکشن سبٹیٹیوٹ کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق آپ کے پاس کھلاڑی کو تبدیل کرنے کے لیے 30 منٹ ہوتے ہیں۔ میں نے شاہین سے کہا کہ اپنی کہنیوں پر ٹیپ لگا لو، اگر خدا نہ کرے حسن علی کی حالت بگڑتی ہے تو تم ہی ہمارے پاس واحد آپشن ہو۔’
انہوں نے مزید کہا کہ شاہین آفریدی کا ردعمل محض حسن علی کی چوٹ کے حوالے سے فکرمندی کا اظہار تھا، جسے سوشل میڈیا پر غلط رنگ دیا گیا۔ انہوں نے کہا، ‘شاہین کی جانب سے کیا گیا اشارہ دراصل حسن علی کی چوٹ کی نشاندہی کر رہا تھا، اس کے پیچھے کوئی بدتمیزی یا تلخی نہیں تھی۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ کیمرہ ہمیں ریکارڈ کر رہا ہے۔’
ٹیسٹ میچ کی موجودہ صورتحال
سلہٹ ٹیسٹ پاکستان کے لیے کافی چیلنجنگ رہا ہے۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس میں لٹن داس کی سنچری اور ناہید رانا اور تیج الاسلام کی عمدہ باؤلنگ شامل تھی۔ دوسری اننگز میں مشفیق الرحیم کی سنچری کی بدولت بنگلہ دیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 437 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے واحد روشن پہلو خرم شہزاد کی کارکردگی رہی، جنہوں نے دونوں اننگز میں چار چار وکٹیں حاصل کر کے خود کو ثابت کیا۔ اگر پاکستان اس ٹیسٹ کو جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے بڑا کامیاب تعاقب ہوگا۔ دوسری جانب، اگر بنگلہ دیش یہ میچ جیت جاتا ہے تو وہ نہ صرف پاکستان کو 0-2 سے وائٹ واش کر دے گا بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر بھی آ جائے گا۔
نتیجہ
کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو اکثر و بیشتر غلط انداز میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ عمر گل کی جانب سے اس معاملے پر دی گئی وضاحت نے ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کر دیا ہے جو سوشل میڈیا پر ٹیم کے اندرونی اتحاد کے حوالے سے پیدا کیے جا رہے تھے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس وقت سخت حالات کا سامنا ہے اور ایسے میں ٹیم کے کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کا آپس میں ہم آہنگ رہنا بہت ضروری ہے۔
