ویرات کوہلی بی سی سی آئی کے ‘چمپک’ سے تنگ: ہر وقت کی فلم بندی پر برہمی کا اظہار
ویرات کوہلی اور ‘چمپک’: جدید ٹیکنالوجی یا کھلاڑیوں کی نجی زندگی میں مداخلت؟
کرکٹ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور رائل چیلنجرز بنگلور کے سابق کپتان ویرات کوہلی اپنی بے باکی اور صاف گوئی کے لیے مشہور ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے آئی پی ایل 2026 کے دوران پیش آنے والے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا ہے جس نے سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کوہلی نے بی سی سی آئی کے نئے روبوٹک کتے، جسے ‘چمپک’ کا نام دیا گیا ہے، کی جانب سے ہر وقت فلم بندی کیے جانے پر اپنی شدید جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا ہے۔
کین ولیمسن کے ساتھ ہونے والا واقعہ
واقعہ 7 مئی کو لکھنؤ میں آر سی بی اور لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے درمیان ہونے والے میچ کے بعد پیش آیا۔ ویرات کوہلی اپنے پرانے دوست اور نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کین ولیمسن سے گفتگو کر رہے تھے، جو اس وقت لکھنؤ سپر جائنٹس کے اسٹریٹجک ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اسی دوران بی سی سی آئی کا روبوٹک ڈاگ ‘چمپک’ ان کے پاس آ گیا اور اپنی حرکات و سکنات سے ان کی توجہ بھٹکانے لگا۔
کوہلی نے اس حوالے سے بتایا کہ وہ کین ولیمسن کے ساتھ کسی سنجیدہ موضوع پر بات کر رہے تھے کہ اچانک یہ روبوٹ وہاں آکر اپنا پنجہ ہلانے لگا۔ کوہلی کے بقول، ‘یہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا۔ میں کین سے بات کر رہا تھا اور وہ روبوٹ وہاں آکر عجیب و غریب حرکتیں کر رہا تھا، میں سوچ رہا تھا کہ یہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟’
روبوٹک ڈاگ ‘چمپک’ کیا ہے؟
بی سی سی آئی اور آئی پی ایل نے 2025 کے سیزن میں ٹیکنالوجی کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اس روبوٹک ڈاگ کو متعارف کرایا تھا۔ اسے ‘wTVision’ نامی کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے اور اس کا مقصد میدان میں ہونے والی ہر سرگرمی کو ایک منفرد زاویے سے فلمانا ہے۔
- تکنیکی خصوصیات: یہ روبوٹ ایک خاص طور پر تیار کردہ گمبل سسٹم (Gimbal System) سے لیس ہے تاکہ ناہموار سطحوں پر بھی ویڈیو مستحکم رہے۔
- ڈیزائن: اس میں 3D پرنٹڈ شیل استعمال کیا گیا ہے تاکہ یہ ہلکا پھلکا اور پائیدار رہے۔
- موبلٹی: اس میں پین ٹیلٹ میکانزم اور ویڈیو آر ایف سسٹم نصب ہے، جو اسے حقیقی وقت میں کھلاڑیوں اور امپائرز کے ردعمل کو کیپچر کرنے کے قابل بناتا ہے۔
آر سی بی پوڈ کاسٹ پر کوہلی کا موقف
ویرات کوہلی نے آر سی بی پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے پہلے کھلاڑیوں کی مرضی اور ان کے آرام کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ براڈکاسٹرز اور بورڈ کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا کھلاڑی ہر وقت فلمائے جانے پر راضی ہیں؟
کوہلی نے مزید کہا، ‘میں نے اس روبوٹ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی، لیکن جب بات حد سے بڑھ گئی تو مجھے آپریٹر سے کہنا پڑا کہ براہ کرم اسے یہاں سے لے جائیں۔ مجھے سکون سے بات کرنے دیں، وہ میرا دوست ہے۔ میں اس کے ساتھ کوئی بھی گفتگو نہیں کر سکتا جو سوشل میڈیا پر ‘کین ماما اور ویرات کوہلی’ کا لمحہ نہ بن جائے۔’
دوستی اور سوشل میڈیا کا دباؤ
ویرات کوہلی اور کین ولیمسن کی دوستی ان کے انڈر 19 کے دنوں سے ہے، یعنی 2008 سے یہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ کوہلی کا ماننا ہے کہ میدان میں دوستوں سے ملنا اور بات کرنا اب ایک مشکل عمل بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ڈریسنگ روم سے باہر کسی سے بھی بات کرتے ہیں تو وہ ایک بڑی خبر بن جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا، ‘وہ بیچارہ کچھ کہہ رہا ہے، کم از کم مجھے اس کی بات تو سننے دیں۔ اگر میں باہر کسی سے بات کرتا ہوں تو اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ اب ضرورت سے زیادہ ہو رہا ہے۔’
نتیجہ: توازن کی ضرورت
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کھیل کو شائقین کے لیے مزید دلچسپ بناتی ہے، لیکن ویرات کوہلی جیسے بڑے کھلاڑی کا یہ احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تفریح اور کھلاڑیوں کی ذاتی جگہ (Personal Space) کے درمیان ایک واضح لکیر ہونی چاہیے۔ بی سی سی آئی کو چاہیے کہ وہ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے حوالے سے کھلاڑیوں کے خدشات کو مدنظر رکھے تاکہ کھیل کا حسن اور کھلاڑیوں کا سکون دونوں برقرار رہ سکیں۔
