ویراٹ کوہلی کا بی سی سی آئی کی ورک لوڈ مینجمنٹ پالیسی پر اظہارِ تشویش
ورک لوڈ مینجمنٹ پر ویراٹ کوہلی کا دو ٹوک موقف
بھارتی کرکٹ میں اس وقت ‘ورک لوڈ مینجمنٹ’ کا موضوع کافی گرما گرم ہے۔ خاص طور پر بی سی سی آئی کی جانب سے ملٹی فارمیٹ کھلاڑیوں کی فٹنس اور شیڈول کی نگرانی پر بحث جاری ہے۔ تاہم، اب سابق بھارتی کپتان اور لیجنڈری بلے باز ویراٹ کوہلی نے اس پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کوہلی کا ماننا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کے کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں انہیں بہت زیادہ پابندیوں میں جکڑنا ان کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
حدود کو سمجھنا ضروری ہے
بنگلورو میں منعقدہ آر سی بی انوویشن لیب انڈین اسپورٹس سمٹ کے دوران بات کرتے ہوئے کوہلی نے واضح کیا کہ وہ کم عمری میں ورک لوڈ کو محدود کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی کو پہلے اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی آخری حد کو جاننا چاہیے، اور تب ہی وہ توازن قائم کر سکتا ہے۔ کوہلی کے مطابق: ‘جب آپ اپنے کیریئر کے اہم دور سے گزر رہے ہوتے ہیں، تب ورک لوڈ مینجمنٹ کے تصور پر مجھے یقین نہیں ہے۔ پہلے آپ کو اپنی زیادہ سے زیادہ حد سمجھنی ہوگی، تب ہی آپ یہ جان پائیں گے کہ آپ کتنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر آپ بہت جلد مینجمنٹ شروع کر دیں گے، تو شاید آپ کبھی اپنی مکمل صلاحیت تک نہیں پہنچ پائیں گے۔’
آئی پی ایل 2026 میں کوہلی کی شاندار کارکردگی
ویراٹ کوہلی، جو خود کرکٹ کی دنیا کے سب سے فٹ کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، اپنی فٹنس کی بدولت آئی پی ایل 2026 میں بھی غیر معمولی فارم میں ہیں۔ وہ مسلسل اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ محنت اور نظم و ضبط ہی کامیابی کی کلید ہے۔ اس سیزن میں اب تک 13 میچوں میں 542 رنز کے ساتھ وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان کا سٹرائیک ریٹ 164.74 ہے، جس نے ان کے روایتی اینکر رول کو ایک نئے جارحانہ انداز میں بدل دیا ہے۔
آر سی بی کی شاندار پیش رفت
کوہلی کی یہ فارم رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوئی ہے۔ ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر 18 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے اور پلے آف میں مضبوط امیدوار کے طور پر ابھری ہے۔ بنگلورو کی ٹیم اس سیزن میں زیادہ متوازن دکھائی دے رہی ہے، جس میں بلے بازی کے ساتھ ساتھ گیند بازوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ٹیم اب ٹاپ 2 میں جگہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جس سے انہیں فائنل تک پہنچنے کے دو مواقع ملیں گے۔
کیا ورک لوڈ مینجمنٹ کے نقصانات ہیں؟
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ کوہلی کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ میچز کھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے عادی ہو سکیں۔ بہت زیادہ آرام یا ‘ورک لوڈ مینجمنٹ’ بعض اوقات نوجوان کھلاڑیوں کے ردھم کو توڑ دیتی ہے۔ کوہلی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ایک کھلاڑی جب تک خود اپنی حدود کو نہیں پرکھتا، تب تک وہ کھیل کی بلندیوں کو نہیں چھو سکتا۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر بورڈ کو یقیناً غور کرنا ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ ویراٹ کوہلی کی فٹنس اور ان کا کرکٹ کے بارے میں نظریہ نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ جہاں ایک طرف بی سی سی آئی کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتی ہے، وہیں کوہلی کی یہ رائے کہ ‘پہلے اپنی حد جانو، پھر مینج کرو’ آنے والے وقتوں میں کرکٹ کی حکمت عملیوں میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ آر سی بی کے مداحوں کو امید ہے کہ کوہلی کی یہ فارم ٹیم کو آئی پی ایل 2026 کا تاج دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
