[CRK] بین ڈکٹ: انگلینڈ کی ‘بیز بال’ حکمت عملی اب صرف تفریح نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھا ہوا کھیل ہے

[CRK]

ایشز سیریز: کیا انگلینڈ کی جارحانہ بیٹنگ اب مزید سمجھدار ہو چکی ہے؟

کرکٹ کی دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم ترین رقابت، ایشز (The Ashes)، ایک بار پھر شروع ہونے والی ہے اور تمام نظریں انگلینڈ کی اس جارحانہ حکمت عملی پر ہیں جسے دنیا ‘بیز بال’ (Bazball) کے نام سے جانتی ہے۔ انگلینڈ کے اوپننگ بلے باز بین ڈکٹ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ان کی ٹیم اب اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں وہ صرف ‘تفریح’ فراہم کرنے کے بجائے میچ کی صورتحال کو سمجھ کر کھیلنے کی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں۔

ایک نئی ٹیم اور ‘بوجھ’ سے پاک ذہنیت

آسٹریلیا کے دورے پر روانہ ہونے والی انگلش ٹیم کی ایک خاص بات اس کی جوانی ہے۔ بین ڈکٹ نے بتایا کہ ٹیم میں 11 ایسے کھلاڑی شامل ہیں جنہوں نے اب تک آسٹریلیا میں ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔ مزید برآں، انگلش اسکواڈ کی اوسط عمر 28 سال ہے، جو کہ آسٹریلوی ٹیم کی اوسط عمر (33 سال) کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

ڈکٹ نے Willow Talk پوڈ کاسٹ کے دوران مزاحیہ انداز میں کہا، “میں نے دوسرے دن دیکھا کہ میں ٹیم کے چوتھے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی ہوں، جسے دیکھ کر مجھے تھوڑی حیرت ہوئی۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایک تازہ دم گروپ ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کے ذہنوں پر پرانی شکستوں یا ناکامیوں کا کوئی ‘بوجھ’ (Baggage) نہیں ہے، اور یہ ذہنی آزادی انہیں آسٹریلوی حالات میں بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد دے گی۔

چیلنجز اور بہترین باؤلنگ اٹیک کا سامنا

بین ڈکٹ 2022 میں اپنی واپسی کے بعد سے اوپنرز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے ہیں۔ 2023 کی ایشز میں انہوں نے 35.66 کی اوسط سے 321 رنز بنائے تھے۔ تاہم، وہ جانتے ہیں کہ آسٹریلیا میں بیٹنگ کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ دنیا کے بہترین باؤلنگ اٹیک کے خلاف ان کے اپنے ہوم گراؤنڈ پر بیٹنگ کریں گے۔ ڈکٹ کے مطابق، “میں اپنے لیے کوئی خاص ہدف مقرر نہیں کر رہا، بلکہ میں صرف اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔”

پیٹ کمنز کی انجری: انگلینڈ کے لیے ایک موقع

پہلے ٹیسٹ میچ کے حوالے سے ایک بڑی خبر یہ ہے کہ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کمر کی انجری (Lumbar Stress Injury) کی وجہ سے دستیاب نہیں ہوں گے۔ اگرچہ کمنز کی فٹنس پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ وہ دوسرے ٹیسٹ تک واپس آ جائیں گے، لیکن ڈکٹ نے ایمانداری سے تسلیم کیا کہ کمنز کی غیر موجودگی انگلینڈ کے لیے فائدہ مند ہے۔

انہوں نے کہا، “آپ ہمیشہ بہترین کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن دوسری طرف، میں ایک اوپنر ہوں اور کمنز دنیا کے بہترین باؤلرز میں سے ایک ہیں۔ اس لیے خاموشی سے میں یہی امید کرتا ہوں کہ وہ جلد ٹھیک نہ ہوں، کیونکہ کسی بھی میچ میں ان کا نہ کھیلنا ہمارے لیے ایک بڑا فائدہ ہے۔”

‘بیز بال’ کا ارتقاء: بے لگام کھیل سے متوازن حکمت عملی تک

پوری دنیا میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا ‘بیز بال’ آسٹریلوی پچوں پر کام کرے گا؟ بین ڈکٹ کے مطابق، ان کا اندازِ کھیل اب زیادہ ‘نیوانسڈ’ (Nuanced) یا باریک بینی پر مبنی ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب ٹیم کا مقصد صرف تیز رنز بنانا نہیں بلکہ ‘موقوں کو پہچاننا’ (Reading Moments) ہے۔

ڈکٹ نے کوچ برینڈن مک کلولم کے مشوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف 30 گیندوں پر 40 رنز بنا کر آؤٹ نہ ہوں، بلکہ ایک بہتر کھلاڑی بنیں۔ انہوں نے مثال دی کہ بعض اوقات دن کے اختتام پر صرف پانچ اوورز بچتے ہیں، ایسی صورتحال میں مقصد رنز بنانا نہیں بلکہ وکٹ بچانا اور اگلی صبح کے لیے موجود رہنا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: “ہم اب صرف ایک تفریحی اور بعض اوقات ‘بے لگام’ (Reckless) ٹیم بن کر نہیں رہنا چاہتے۔ میں خود ماضی میں اس بات پر مایوس ہوا ہوں کہ میں نے 60 گیندوں پر 80 رنز بنائے جو دیکھنے میں تو اچھے لگتے ہیں، لیکن شاید وہ ٹیم کو اتنی مضبوط پوزیشن میں نہیں لے جاتے۔ اب ہمارا مقصد موقع کی مناسبت سے کھیلنا اور پھر ایک بڑا اسکور بنانا ہے۔”

بین اسٹوکز: ٹیم کا اصل انجن

آخر میں، بین ڈکٹ نے کپتان بین اسٹوکز کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ٹیم کا سب سے اہم شخص قرار دیا۔ انہوں نے اسٹوکز کی ٹریننگ کی شدت کو دیکھ کر اپنی حیرت کا اظہار کیا۔

ڈکٹ نے بتایا کہ اسٹوکز اس وقت ‘بیسٹ موڈ’ (Beast Mode) میں ہیں، جہاں وہ گھنٹوں بیٹنگ کر رہے ہیں اور مسلسل باؤلنگ اسپیلز ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں نے آج تک کسی کھلاڑی کو اس شدت سے ٹریننگ کرتے نہیں دیکھا۔ جب وہ باؤلنگ کرتے ہیں تو وہ ہماری ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اس لیے ہماری دعا ہے کہ وہ پانچوں ٹیسٹ میچز کے لیے فٹ رہیں۔”

انگلینڈ کی یہ تبدیل شدہ سوچ اور اسٹوکز کی قیادت میں ٹیم کی تیاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس بار ایشز میں ہمیں ایک زیادہ سمجھدار اور خطرناک انگلینڈ دیکھنے کو ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *